6 اشعار

مرے ارمان مایوسی کے پالے پڑتے جاتے ہیں

Mere armaan mayusi ke paale padte jate hain

مرے ارمان مایوسی کے پالے پڑتے جاتے ہیں

«مرے ارمان مایوسی کے پالے پڑتے جاتے ہیں» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

مرے ارمان مایوسی کے پالے پڑتے جاتے ہیںتمہاری چاہ میں جینے کے لالے پڑتے جاتے ہیں

ادھر اس کی شرارت جس نے غم کی آگ سلگا دیادھر میرا کلیجہ جس میں چھالے پڑتے جاتے ہیں

مرے ان کے تعلق پر کوئی اب کچھ نہیں کہتاخدا کا شکر سب کے منہ میں تالے پڑتے جاتے ہیں

غم ناکامیٔ کوشش سے حالت بگڑی جاتی ہےکلیجے میں یہاں بے آگ چھالے پڑتے جاتے ہیں

ہمارا درد آہ دل مزا دیتا ہے اڑ اڑ کرتمہارے چاند سے چہرے پہ ہالے پڑتے جاتے ہیں

مسیحا جا رہا ہے دوڑ کر آواز دو مضطرؔکہ دل کو دیکھتا جا جس میں چھالے پڑتے جاتے ہیں

— مضطر خیرآبادی