6 اشعار

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے

Aseer-e-panja-e-ahd-e-shabab kar ke mujhe

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے

«اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھےکہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

کسی کے درد محبت نے عمر بھر کے لیےخدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مجھے

یہ ان کے حسن کو ہے صورت آفریں سے گلہغضب میں ڈال دیا لا جواب کر کے مجھے

وہ پاس آنے نہ پائے کہ آئی موت کی نیندنصیب سو گئے مصروف خواب کر کے مجھے

مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمتکریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

میں ان کے پردۂ بے جا سے مر گیا مضطرؔانھوں نے مار ہی ڈالا حجاب کر کے مجھے

— مضطر خیرآبادی