7 اشعار

تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہے

Tu mujhe kis ke banane ko mita baitha hai

تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہے

«تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہےمیں کوئی غم تو نہیں تھا جسے کھا بیٹھا ہے

بات کچھ خاک نہیں تھی جو اڑائی تو نےتیر کچھ عیب نہیں تھا جو لگا بیٹھا ہے

میل کچھ کھیل نہیں تھا جو بگاڑا تو نےربط کچھ رسم نہیں تھا جو گھٹا بیٹھا ہے

آنکھ کچھ بات نہیں تھی جو جھکائی تو نےرخ کوئی راز نہیں تھا جو چھپا بیٹھا ہے

نام ارمان نہیں تھا جو نکالا تو نےعشق افواہ نہیں تھا جو اڑا بیٹھا ہے

لاگ کچھ آگ نہیں تھی جو لگا دی تو نےدل کوئی گھر تو نہیں تھا جو جلا بیٹھا ہے

رسم کاوش تو نہیں تھی جو مٹا دی تو نےہاتھ پردہ تو نہیں تھا جو اٹھا بیٹھا ہے

— مضطر خیرآبادی