8 اشعار

انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیں

Inhin logon ki badolat yeh haseen achhe hain

انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیں

«انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیں» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیںچاہنے والے ان اچھوں سے کہیں اچھے ہیں

کوچۂ یار سے یا رب نہ اٹھانا ہم کواس برے حال میں بھی ہم تو یہیں اچھے ہیں

نہ کوئی داغ نہ دھبا نہ حرارت نہ تپشچاند سورج سے بھی یہ ماہ جبیں اچھے ہیں

کوئی اچھا نظر آ جائے تو اک بات بھی ہےیوں تو پردے میں سبھی پردہ نشیں اچھے ہیں

تیرے گھر آئیں تو ایمان کو کس پر چھوڑیںہم تو کعبے ہی میں اے دشمن دیں اچھے ہیں

ہیں مزے حسن و محبت کے انہیں کو حاصلآسماں والوں سے یہ اہل زمیں اچھے ہیں

ایک ہم ہیں کہ جہاں جائیں برے کہلائیںایک وہ وہ ہیں کہ جہاں جائیں وہیں اچھے ہیں

کوچۂ یار سے محشر میں بلاتا ہے خداکہہ دو مضطرؔ کہ نہ آئیں گے یہیں اچھے ہیں

— مضطر خیرآبادی