8 اشعار

بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالے

Baithe hue hain hum khud aankhon mein dhool dale

بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالے

«بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالےاے روئے یار تو نے پردے فضول ڈالے

جھگڑا ہی تم چکا دو جب تیغ کھینچ لی ہےآفت میں پھر نہ مجھ کو جان ملول ڈالے

صورت تو ایک ہی تھی دو گھر ہوئے تو کیا ہےدیر و حرم کی بابت جھگڑے فضول ڈالے

تربت سے کوئی پوچھے نیرنگئ زمانہبعضوں نے خاک ڈالی بعضوں نے پھول ڈالے

کہتے ہیں جس کو جلوہ وہ بھی کہیں رکا ہےآڑیں فضول کی ہیں پردے فضول ڈالے

صدقے دل و جگر کو مژگاں پہ کر چکا ہوںمیں نے تو اپنے ہاتھوں کانٹوں پہ پھول ڈالے

کیسے حساب جوڑوں اعمال معصیت کاجب اس کی شان رحمت گنتی میں بھول ڈالے

مضطرؔ دلوں کے اندر رکھنے کے تھے یہ کافردوزخ میں کیوں خدا نے جنت کے پھول ڈالے

— مضطر خیرآبادی