12 اشعار

ہجر میں ہو گیا وصال کا کیا

Hijr mein ho gaya visal ka kya

ہجر میں ہو گیا وصال کا کیا

«ہجر میں ہو گیا وصال کا کیا» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

ہجر میں ہو گیا وصال کا کیاخواب ہی بن گیا خیال کا کیا

خود نمائی پہ خاک ڈالو تمدیکھنا شکل بے مثال کا کیا

تیری فرقت کے دن خدا کاٹےہو رہے گا کبھی وصال کا کیا

دل کے دینے میں عذر کس کو ہےجان ہی دے رہے ہیں مال کا کیا

حال اس نے ہمارا پوچھا ہےپوچھنا اب ہمارے حال کا کیا

وصل کی التجا پہ بگڑے کیوںسن کے چپ ہو رہو سوال کا کیا

دور کی عاشقی گناہ نہیںدیکھ لیتے ہیں دیکھ بھال کا کیا

زلف کو کیوں جکڑ کے باندھا ہےاس نے بوسہ لیا تھا گال کا کیا

آج تم کیوں ملول بیٹھے ہووصل دن ہے مرے وصال کا کیا

جب کہا تم سے روز ملتا ہوںہنس کے کہنے لگے خیال کا کیا

قول کے وقت شرط‌ فرصت کیوںدخل وعدے میں احتمال کا کیا

رنج دے کر جو خوش ہو اے مضطرؔاس کو صدمہ مرے ملال کا کیا

— مضطر خیرآبادی