5 اشعار

یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے

Yeh tum be-waqt kaise aaj aa nikle sabab kya hai

یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے

«یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

یہ تم بے وقت کیسے آج آ نکلے سبب کیا ہےبلایا جب نہ آئے اب یہ آنا بے طلب کیا ہے

محبت کا اثر پھر دیکھنا مرنے تو دو مجھ کووہ میرے ساتھ زندہ دفن ہو جائیں عجب کیا ہے

نگاہ یار مل جاتی تو ہم شاگرد ہو جاتےذرا یہ سیکھ لیتے دل کے لے لینے کا ڈھب کیا ہے

جو غم تم نے دیا اس پر تصدق سیکڑوں خوشیاںجو دکھ تم سے ملے ان کے مقابل میں طرب کیا ہے

سمجھتے تھے بڑا سچا مسلماں تم کو سب مضطرؔمگر تم تو بتوں کو پوجتے ہو یہ غضب کیا ہے

— مضطر خیرآبادی