6 اشعار

چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے

Chahat ki nazar aap se dali bhi gai hai

چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے

«چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہےحسرت کسی عاشق کی نکالی بھی گئی ہے

تم نے کسی بیمار کو اچھا بھی کیا ہےحالت کسی بگڑے کی سنبھالی بھی گئی ہے

تم کھیل سمجھتے ہو مگر یہ تو بتاؤآہ‌ دل مضطر کبھی خالی بھی گئی ہے

کیا خاک کروں میں خلش عشق کا شکوہیہ پھانس کبھی تم سے نکالی بھی گئی ہے

جھگڑے بھی کہیں رشک رقابت کے مٹے ہیںالفت میں کبھی خام خیالی بھی گئی ہے

مضطرؔ کو کبھی حسن کا صدقہ بھی دیا ہےیہ بھیک کبھی آپ سے ڈالی بھی گئی ہے

— مضطر خیرآبادی