6 اشعار

ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سے

Hum ne paai lazzat-e-deedar lekin door se

ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سے

«ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سےان کی صورت دیکھ لی سو بار لیکن دور سے

وہ دکھاتے ہیں ہمیں رخسار لیکن دور سےاس کا مطلب ہے کہ کر لو پیار لیکن دور سے

اس نے جانچا میرا درد دل مگر آیا نہ پاساس نے دیکھا میرا حال زار لیکن دور سے

روزن دیوار سے حسرت بھری آنکھیں لڑیںہو گئیں ان سے نگاہیں چار لیکن دور سے

اس نے آنے کا کیا ہے قول لیکن تا بہ دراس نے ملنے کا کیا اقرار لیکن دور سے

پاس مضطرؔ کس طرح جاتے ہجوم یاس میںہو گیا ان کا ہمیں دیدار لیکن دور سے

— مضطر خیرآبادی