10 اشعار

دم آخر مصیبت کاٹ دو بہر خدا میری

Dam-e-aakhir museebat kaaT do bahar-e-Khuda meri

دم آخر مصیبت کاٹ دو بہر خدا میری

«دم آخر مصیبت کاٹ دو بہر خدا میری» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

دم آخر مصیبت کاٹ دو بہر خدا میریتم آ کر درد کے پردے میں کر جاؤ دوا میری

محبت بت کدے میں چل کے اس کا فیصلہ کر دےخدا میرا خدا ہے یا یہ مورت ہے خدا میری

یہاں سے جب گئی تھی تب اثر پر خار کھائے تھیوہاں سے پھول برساتی ہوئی پلٹی دعا میری

تو ہی کہہ دے یہ جسم زار میرا ہے کہ تیرا ہےتو ہی کہہ دے یہ روح ناتواں تیری ہے یا میری

پڑا ہے تفرقہ جس دن سے کیا کیا یاد کرتی ہےادھر مجھ کو جفا تیری ادھر تجھ کو وفا میری

مقید ہو کے لطف ہستئ آزاد بھی کھویاوہ کیا تھی ابتدا میری یہ کیا ہے انتہا میری

وہاں جب تھے تو جسم ناتواں میں روح پھونکی تھییہاں جس دن سے آئے آپ بن بیٹھے قضا میری

میان حشر یہ کافر بڑے اترائے پھرتے ہیںمزا آ جائے ایسے میں اگر سن لے خدا میری

کسی کا جلوۂ رنگیں یہ کہتا ہے انہیں پوجویہ اس پتھر کے بت ہیں جس پہ پستی تھی حنا میری

نہ جانے کون سے یوسف کا جلوہ مجھ میں پنہاں ہےزلیخا آج تک کرتی ہے مضطرؔ التجا میری

— مضطر خیرآبادی