6 اشعار

کیا کہوں حسرت دیدار نے کیا کیا کھینچا

Kya kahoon hasrat-e-deedar ne kya kya khaincha

کیا کہوں حسرت دیدار نے کیا کیا کھینچا

«کیا کہوں حسرت دیدار نے کیا کیا کھینچا» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

کیا کہوں حسرت دیدار نے کیا کیا کھینچاکبھی دامن ترا کھینچا کبھی پردا کھینچا

نقش امید مرے شوق نے الٹا کھینچامجھ سے کھنچتے ہی گئے وہ انہیں جتنا کھینچا

وہ ترے دل میں ہماری بھی جگہ کر دے گاجس نے اس آنکھ کے تل میں ترا نقشا کھینچا

خواب اس دل پہ تری آنکھ نے ڈورے ڈالےخوب کاجل نے تری آنکھ میں ڈورا کھینچا

تان لیں دونوں بھویں ڈال کے نظریں اس نےتیر چھوڑے تو کمانوں نے بھی چلا کھینچا

ضبط فریاد سے مضطرؔ مری سانسیں الجھیںرسم فریاد نے اوپر کو کلیجا کھینچا

— مضطر خیرآبادی