7 اشعار

دل کا معاملہ جو سپرد نظر ہوا

Dil ka muamla jo supurd-e-nazar hua

دل کا معاملہ جو سپرد نظر ہوا

«دل کا معاملہ جو سپرد نظر ہوا» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

دل کا معاملہ جو سپرد نظر ہوادشوار سے یہ مرحلہ دشوار تر ہوا

ابھرا ہر اک خیال کی تہہ سے ترا خیالدھوکا تری صدا کا ہر آواز پر ہوا

راہوں میں ایک ساتھ یہ کیوں جل اٹھے چراغشاید ترا خیال مرا ہم سفر ہوا

سمٹی تو اور پھیل گئی دل میں موج دردپھیلا تو اور دامن غم مختصر ہوا

لہرا کے تیری زلف بنی اک حسین شامکھل کر ترے لبوں کا تبسم سحر ہوا

پہلی نظر کی بات تھی پہلی نظر کے ساتھپھر ایسا اتفاق کہاں عمر بھر ہوا

دل میں جراحتوں کے چمن لہلہا اٹھےمضطرؔ جب اس کے شہر سے اپنا گزر ہوا

— مضطر خیرآبادی