11 اشعار

عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میں

Umr kaati buton ki aadon mein

عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میں

«عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میں» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میںبن کے پتھر رہا پہاڑوں میں

وہ لڑائی میں بول اٹھے مجھ سےبات اچھی بنی بگاڑوں میں

درد سر کے علاج کو وحشتکھینچ کر لے چلی پہاڑوں میں

مستیاں اور بہار کا موسممے کی لذت گلابی جاڑوں میں

دختر رز کی شرم تو دیکھوچھپ گئی جا کے خم کی آڑوں میں

تو نے پی ہی نہیں ہے اے زاہدمے کی گرمی نہ پوچھ جاڑوں میں

تیرے گیسو بھی ہو گئے شاملمیری تقدیر کے بگاڑوں میں

مرگ دشمن پہ موت روتی ہےیہ اثر ہے تری پچھاڑوں میں

اٹھتے جوبن پہ کھل پڑے گیسوآ کے جوگی بسے پہاڑوں میں

وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیںآج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

عشق میں جان پر بنی مضطرؔزندگی کٹ گئی بگاڑوں میں

— مضطر خیرآبادی