8 اشعار

اک پردہ نشیں کی آرزو ہے

Ek parda nasheen ki aarzoo hai

اک پردہ نشیں کی آرزو ہے

«اک پردہ نشیں کی آرزو ہے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

اک پردہ نشیں کی آرزو ہےدر پردہ کہیں کی آرزو ہے

ہے بھی تو انہیں کا دل کو ارماںہے بھی تو انہیں کی آرزو ہے

ہوتا نہیں ہاں سے قول پورااب مجھ کو نہیں کہ آرزو ہے

کھو آئے ہیں کوئے یار میں دلاس پر بھی وہیں کی آرزو ہے

ایمان کا اب خدا نگہباںاک دشمن دیں کی آرزو ہے

نکلے بھی تو تیری جستجو میںیہ جان حزیں کی آرزو ہے

اندھیرا مچا ہوا ہے دل میںکس ماہ جبیں کی آرزو ہے

کیوں حشر کا قول کر رہے ہومضطرؔ کو یہیں کی آرزو ہے

— مضطر خیرآبادی