8 اشعار

جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے

Jo poochha munh dikhane aap kab chilman se niklenge

جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے

«جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گےتو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے

جلے گا دل تمہیں بزم عدو میں دیکھ کر میرادھواں بن بن کے ارماں محفل دشمن سے نکلیں گے

اکٹھے کر کے تیری دوسری تصویر کھینچوں گاوہ سب جلوے جو چھن چھن کر تری چلمن سے نکلیں گے

سیہ پوشاک دوش ناز پر بکھری ہوئی زلفیںمرے ماتم کی شرکت کو بڑے جوبن سے نکلیں گے

ہمیں پروا نہیں اس کی قیامت لاکھ بار آئےنہ تم مدفن پہ آؤ گے نہ ہم مدفن سے نکلیں گے

ترے دامن سے بدلا لیں گے ظالم خون ناحق کاوہ فوارے لہو کے جو مری گردن سے نکلیں گے

یہی رشتہ جنون عاشقی کا ہے تو کچھ دن میںمرے تار گریباں یار کے دامن سے نکلیں گے

ہزاروں حسن والے اس زمیں میں دفن ہیں مضطرؔقیامت ہوگی جب یہ سب کے سب مدفن سے نکلیں گے

— مضطر خیرآبادی