7 اشعار

دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوا

Dua se kuch na hua iltija se kuch na hua

دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوا

«دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوا» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوابتوں کے عشق میں یاد خدا سے کچھ نہ ہوا

میں ایک کیا ہوں سبھی با وفا ہیں شاکئ جورتم ایک کیا ہو کسی بے وفا سے کچھ نہ ہوا

بھری تو تھی مگر اپنے اثر کو لا نہ سکیگئی تو تھی مگر آہ رسا سے کچھ نہ ہوا

وہ آرزو ہوں کہ جس آرزو کی کچھ نہ چلیوہ مدعا ہوں کہ جس مدعا سے کچھ نہ ہوا

یہی سہی کہ خوشی سے ملے ملے تو سہییہی سہی کہ ہماری دعا سے کچھ نہ ہوا

وہ ایک ہم کہ جو چاہا کیا وصال کی راتوہ ایک تم کہ تمہاری حیا سے کچھ نہ ہوا

انہیں بلا کے تصور میں ہم ملے مضطرؔہوس تو ہو گئی پوری بلا سے کچھ نہ ہوا

— مضطر خیرآبادی