5 اشعار

رخ کسی کا نظر نہیں آتا

Rukh kisi ka nazar nahin aata

رخ کسی کا نظر نہیں آتا

«رخ کسی کا نظر نہیں آتا» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

رخ کسی کا نظر نہیں آتاکوئی آتا نظر نہیں آتا

کیا کہوں کیا ملال رہتا ہےکیا کہوں کیا نظر نہیں آتا

سننے والے تو بات کے لاکھوںکہنے والا نظر نہیں آتا

دور سے وہ جھلک دکھاتے ہیںچاند پورا نظر نہیں آتا

کھوئی کھوئی نظر یہ کیوں مضطرؔکچھ کہو کیا نظر نہیں آتا

— مضطر خیرآبادی