8 اشعار

اک نقش خیال رو بہ رو ہے

Ek naqsh-e-khayal ru-ba-ru hai

اک نقش خیال رو بہ رو ہے

«اک نقش خیال رو بہ رو ہے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

اک نقش خیال رو بہ رو ہےجو کچھ ہے یہ کچھ نہیں ہے تو ہے

ہر پھول کے ساتھ ایک کانٹاہر دوست کے ساتھ اک عدو ہے

دل ہے تو ہزار تجھ سے اچھےایسا ہی تو اک بڑا وہ تو ہے

دشمن کے جگر کا خار میں ہوںاور اس کے گلے کا ہار تو ہے

دامن جو ہے پردہ‌ دار وحشتاس میں بھی کئی جگہ رفو ہے

میں آپ ہی آپ رو رہا ہوںکچھ آپ ہی آپ گفتگو ہے

محشر میں کسی کا ہائے کہنااب آپ کے ہاتھ آبرو ہے

او غیر کو آنکھ دینے والےمضطرؔ بھی نگاہ رو بہ رو ہے

— مضطر خیرآبادی