6 اشعار

جب کہا تیر تری آنکھ نے اکثر مارا

Jab kaha teer teri aankh ne aksar mara

جب کہا تیر تری آنکھ نے اکثر مارا

«جب کہا تیر تری آنکھ نے اکثر مارا» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

جب کہا تیر تری آنکھ نے اکثر ماراچتونیں پھیر کے بولے کہ برابر مارا

قدر کچھ بھی مرے دل کی بت کافر نے نہ کیزلف پیچاں سے جو الجھا تو مرے سر مارا

جان بے موت خدا بھی نہیں لیتا لیکنتو نے بے موت ہی لوگوں کو ستم گر مارا

چند ذرے میری مٹی کے فقط ہاتھ آئےدشت غربت کے بگولوں نے جو چکر مارا

اک مسلمان کا دل توڑ دیا کیا کہنااپنے نزدیک بڑا آپ نے کافر مارا

مضطرؔ ایسا کوئی اب تک نہ ہوا اور نہ ہوموت نے ہائے عبث داغ سخنور مارا

— مضطر خیرآبادی