4 اشعار

محبت کر کے لاکھوں رنج جھیلے بیکلی پائی

Mohabbat kar ke lakhon ranj jhele bekali paayi

محبت کر کے لاکھوں رنج جھیلے بیکلی پائی

«محبت کر کے لاکھوں رنج جھیلے بیکلی پائی» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

محبت کر کے لاکھوں رنج جھیلے بیکلی پائیوہ مجھ کو کیا ملے اک موت گویا جیتے جی پائی

وہ بلبل ہوں کہ جس دن سے لٹا ہے آشیاں میرااٹھا لایا میں اپنا دل سمجھ کر جو کلی پائی

شکایت اس کی کیا تجھ سے یہ اپنی اپنی قسمت ہےکہ میری آنکھ کو آنسو ملے تو نے ہنسی پائی

جہاں میں واقعی مضطرؔ کا بھی اک دم غنیمت تھامگر افسوس تھوڑے دن جیا کم زندگی پائی

— مضطر خیرآبادی