7 اشعار

فصل گل بھی ترس کے کاٹی ہے

Fasl-e-gul bhi taras ke kaati hai

فصل گل بھی ترس کے کاٹی ہے

«فصل گل بھی ترس کے کاٹی ہے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

فصل گل بھی ترس کے کاٹی ہےعمر کانٹوں میں بس کے کاٹی ہے

میں نے رو کر گزار دی اے ابرجیسے تو نے برس کے کاٹی ہے

ہو کے پابند الفت صیادزندگی بے‌ قفس کے کاٹی ہے

سوز الفت میں زندگی میں نےغیر کا منہ جھلس کے کاٹی ہے

زندگی بھر رہے حسینوں میںعمر پھولوں میں بس کے کاٹی ہے

اس نے کس ناز سے مری گردنکمر شوق کس کے کاٹی ہے

اس کی حسرت ہے دید کے قابلجس نے مضطرؔ ترس کے کاٹی ہے

— مضطر خیرآبادی