10 اشعار

جب کہا میں ہوں ترے عشق میں بدنام کہ تو

Jab kaha main hoon tere ishq mein badnaam keh tu

جب کہا میں ہوں ترے عشق میں بدنام کہ تو

«جب کہا میں ہوں ترے عشق میں بدنام کہ تو» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

جب کہا میں ہوں ترے عشق میں بدنام کہ توہنس کے کس ناز سے بولا بت خود کام کہ تو

کون سی راہ چلوں کفر محبت سچ کہہکام آئے گا وہاں مذہب اسلام کہ تو

دھوکے دے دے کہ مرا وقت کٹا ہے کہ تراوعدے کر کر کے میں سویا ہوں سر شام کہ تو

پردہ اٹھنے سے مرا راز کھلا ہے کہ تراگھر سے نکلا ہے ترے ساتھ مرا نام کہ تو

کچھ تو کہہ اے دل بے تاب ارادے کیا ہیںنامہ بر جائے گا لے کر مرا پیغام کہ تو

خاتمہ ہجر کی شب کون کرے گا میراحسرت وصل کا بگڑا ہوا انجام کہ تو

ساعت عیش دو روزہ تری حاجت کیا ہےغم جاوید نکالے گا مرا کام کہ تو

کون پیتا ہے محبت کا پیالہ پی لےمدعی لے گا مرے ہاتھ سے اک جام کہ تو

میں نے سوچا کہ نگاہیں انہیں ڈھونڈیں کہ خیالناگہاں بول اٹھی گردش ایام کہ تو

تجھ کو کیوں رنجش بے جا ہے عدو کا کھٹکامیں اٹھاؤں گا محبت میں یہ الزام کہ تو

— مضطر خیرآبادی