6 اشعار

محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھی

Mohabbat ko kehte ho barti bhi thi

محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھی

«محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھی» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

محبت کو کہتے ہو برتی بھی تھیچلو جاؤ بیٹھو کبھی کی بھی تھی

بڑے تم ہمارے خبر گیر حالخبر بھی ہوئی تھی خبر لی بھی تھی

صبا نے وہاں جا کے کیا کہہ دیامری بات کم بخت سمجھی بھی تھی

گلہ کیوں مرے ترک تسلیم کاکبھی تم نے تلوار کھینچی بھی تھی

دلوں میں صفائی کے جوہر کہاںجو دیکھا تو پانی میں مٹی بھی تھی

بتوں کے لیے جان مضطرؔ نے دییہی اس کے مالک کی مرضی بھی تھی

— مضطر خیرآبادی