6 اشعار

غرور الفت کی طرز نازش عجب کرشمے دکھا رہی ہے

Ghuroor-e-ulfat ki tarz-e-nazish ajab karishme dikha rahi hai

غرور الفت کی طرز نازش عجب کرشمے دکھا رہی ہے

«غرور الفت کی طرز نازش عجب کرشمے دکھا رہی ہے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

غرور الفت کی طرز نازش عجب کرشمے دکھا رہی ہےہماری روٹھی ہوئی نظر کو تری تجلی منا رہی ہے

وہ طور والی تری تجلی غضب کی گرمی دکھا رہی ہےوہاں تو پتھر جلا دیے تھے یہاں کلیجہ جلا رہی ہے

مرے نشیمن میں شان قدرت کے سارے اسباب ہیں مہیاہوا صفائی پہ ہے مقرر چراغ بجلی جلا رہی ہے

نہ اس کے دامن سے میں ہی الجھا نہ میرے دامن سے یہ ہی اٹکیہوا سے میرا بگاڑ کیا ہے جو شمع تربت بجھا رہی ہے

فرشتے آئے اگر لحد میں تو صاف کہہ دوں گا راستہ لوجب اس کی چاہت میں جان دے دی تو بات کہنے کو کیا رہی ہے

جمال قدرت مجھی کو دے دے کہ میں کلیجے کی چوٹ سیکوںکلیم کے گھر میں رکھے رکھے وہ آگ اب کیا بنا رہی ہے

— مضطر خیرآبادی