5 اشعار

سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والے

Sahein kab tak jafayein bewafai dekhne wale

سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والے

«سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والےکہاں تک جان پر کھیلیں جدائی دیکھنے والے

ترے بیمار غم کی اب تو نبضیں بھی نہیں ملتیںکف افسوس ملتے ہیں کلائی دیکھنے والے

خدا سے کیوں نہ مانگیں کیوں کریں منت امیروں کییہ کیا دیں گے کسی کو آنہ پائی دیکھنے والے

بتوں کی چاہ بنتی ہے سبب عشق الٰہی کاخدا کو دیکھ لیتے ہیں خدائی دیکھنے والے

مہینوں بھائی بندوں نے مرا ماتم کیا مضطرؔمہینوں روئے خالی چارپائی دیکھنے والے

— مضطر خیرآبادی