5 اشعار

وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئی

Woh qaza ke ranj mein jaan dein ke namaz jin ki qaza hui

وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئی

«وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئی» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

وہ قضا کے رنج میں جان دیں کہ نماز جن کی قضا ہوئیترے مست بادۂ شوق نے نہ کبھی پڑھی نہ ادا ہوئی

ترے دور دورۂ عشق میں مری ایک رنگ سے کٹ گئینہ ستم ہوا نہ کرم ہوا نہ جفا ہوئی نہ وفا ہوئی

مجھے غیر عجز و نیاز نے ترے در پہ جا کے جھکا دیانہ تو کوئی عہد لکھا گیا نہ تو کوئی رسم ادا ہوئی

مرا دل بھی تھا مری جاں بھی تھی نہ وہی رہا نہ یہی رہیمجھے کیا خبر کہ وہ کیا ہوا مجھے کیا خبر کہ یہ کیا ہوئی

مری عمر مضطرؔ خستہ دل کٹی رنج و درد و فراق میںنہ کسی سے میری دوا ہوئی نہ دوا سے مجھ کو شفا ہوئی

— مضطر خیرآبادی