10 اشعار

کسی کے سنگ در سے اپنی میت لے کے اٹھیں گے

Kisi ke sang-e-dar se apni maiyat le ke uthenge

کسی کے سنگ در سے اپنی میت لے کے اٹھیں گے

«کسی کے سنگ در سے اپنی میت لے کے اٹھیں گے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

کسی کے سنگ در سے اپنی میت لے کے اٹھیں گےیہی پتھر پئے تعویذ تربت لے کے اٹھیں گے

گئے وہ دن کہ ہم گرتے تھے اور ہمت اٹھاتی تھیوہ دن آیا کہ اب ہم اپنی ہمت لے کے اٹھیں گے

اگر دل ہے تو تیرا درد الفت ساتھ جائے گاکلیجا ہے تو تیرا داغ حسرت لے کے اٹھیں گے

یہ پیدا ہوتے ہی رونا صریحاً بدشگونی ہےمصیبت میں رہیں گے اور مصیبت لے کے اٹھیں گے

خط قسمت مٹاتے ہو مگر اتنا سمجھ لینایہ حرف آرزو ہاتھوں کی رنگت لے کے اٹھیں گے

مجھے اپنی گلی میں دیکھ کر وہ ناز سے بولےمحبت سے دبے جاتے ہیں حسرت لے کے اٹھیں گے

ترے کوچے میں کیوں بیٹھے فقط اس واسطے بیٹھےکہ جب اٹھیں گے اس دنیا سے جنت لے کے اٹھیں گے

ترا راز محبت لے کے آئے لے کے جائیں گےامانت لے کے بیٹھے ہیں امانت لے کے اٹھیں گے

ہمیں اس نام جپنے کا مزا اس روز آئے گاتمہارا نام جس دن زیر تربت لے کے اٹھیں گے

دم آخر ہم آنچل ان کا مضطرؔ کس طرح چھوڑیںیہی تو ہے کفن جس کی بدولت لے کے اٹھیں گے

— مضطر خیرآبادی