8 اشعار

ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میں

Hum umr ke saath hi hain safar mein

ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میں

«ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میں» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میںبیٹھے ہوئے جا رہے ہیں گھر میں

ہم لٹ گئے تیری رہ گزر میںیہ ایک ہوئی ہے عمر بھر میں

اب کون رہا کہ جس کو دیکھوںاک تو تھا سو آ گیا نظر میں

حسرت کو ملا ہے خانۂ دلتقدیر کھلی غریب گھر میں

آنکھیں نہ چراؤ دل میں رہ کرچوری نہ کرو خدا کے گھر میں

اب وصل کی رات ہو چکی ختملو چھپ رہو دامن سحر میں

میں آپ ہی ان سے بولتا ہوںبیٹھا ہوں زبان‌ نامہ بر میں

مضطرؔ کرو دل ہی دل میں شکوےرہ جائے گی بات گھر کی گھر میں

— مضطر خیرآبادی