6 اشعار

وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

Wafa kiya kar nahin sakte hain woh lekin nahin karte

وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

«وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

وفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتےکہا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

مسیحائی کا دعویٰ اور بیماروں سے یہ غفلتدوا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

رقیبوں پر عدو پر غیر پر چرخ ستم گر پرجفا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

کبھی داد‌ محبت دے کے حق میری وفاؤں کاادا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

زکات حسن دے کر اپنے کوچے کے گداؤں کابھلا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

دل مضطرؔ کو قید دام گیسوئے پریشاں سےرہا کیا کر نہیں سکتے ہیں وہ لیکن نہیں کرتے

— مضطر خیرآبادی