6 اشعار

جان یہ کہہ کے بت ہوش ربا نے لے لی

Jaan yeh keh ke but-e-hosh-ruba ne le li

جان یہ کہہ کے بت ہوش ربا نے لے لی

«جان یہ کہہ کے بت ہوش ربا نے لے لی» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

جان یہ کہہ کے بت ہوش ربا نے لے لیکوئی پوچھے تو یہ کہنا کہ خدا نے لے لی

گل مقصود میں اول تو مہک تھی ہی نہیںاور جو تھی بھی وہ حسرت کی ہوا نے لے لی

سب سے پہلے تو سیاہی مری قسمت کو ملیجو بچی تھی وہ تری زلف دوتا نے لے لی

جان کمبخت محبت میں بچائے نہ بچیبت کافر سے جو چھوٹی تو خدا نے لے لی

دم آخر بت بے درد کا دامن چھوٹامیرے ہاتھوں سے بڑی چیز خدا نے لے لی

چل بسی جان تو اس بات کا غم کیا مضطرؔاک امانت تھی خدا کی سو خدا نے لے لی

— مضطر خیرآبادی