5 اشعار

مخالف ہے صبائے نامہ بر کچھ اور کہتی ہے

Mukhalif hai saba-e-nama-bar kuch aur kehti hai

مخالف ہے صبائے نامہ بر کچھ اور کہتی ہے

«مخالف ہے صبائے نامہ بر کچھ اور کہتی ہے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

مخالف ہے صبائے نامہ بر کچھ اور کہتی ہےادھر کچھ اور کہتی ہے ادھر کچھ اور کہتی ہے

نہ تو دشمن کے گھر سویا نہ تو دشمن کے گھر جاگایہ سب سچ ہے تری صورت مگر کچھ اور کہتی ہے

ادھر مد نظر ان کو چھپانا راز الفت کاادھر کمبخت میری چشم تر کچھ اور کہتی ہے

تصور دل میں شاید آ گیا ہے گھر کے جانے کایہ انگڑائی تری وقت سحر کچھ اور کہتی ہے

نہیں معلوم مضطرؔ مر گیا یا سانس باقی ہےالٰہی خیر شکل چارہ گر کچھ اور کہتی ہے

— مضطر خیرآبادی