7 اشعار

جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہم (ردیف .. ے)

Jab kaha main ne ki mar mar ke bache hijr mein hum (radeef .. e)

جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہم (ردیف .. ے)

«جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہم (ردیف .. ے)» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہمہنس کے بولے تمہیں جینا تھا تو مر کیوں نہ گئے

ہم تو اللہ کے گھر جا کے بہت پچھتائےجان دینی تھی تو کافر ترے گھر کیوں نہ گئے

سوئے دوزخ بت کافر کو جو جاتے دیکھاہم نے جنت سے کہا ہائے ادھر کیوں نہ گئے

پہلے اس سوچ میں مرتے تھے کہ جیتے کیوں ہیںاب ہم اس فکر میں جیتے ہیں کہ مر کیوں نہ گئے

زاہدو کیا سوئے‌ مشرق نہیں اللہ کا گھرکعبے جانا تھا تو تم لوگ ادھر کیوں نہ گئے

تو نے آنکھیں تو مجھے دیکھ کے نیچی کر لیںمیرے دشمن تری نظروں سے اتر کیوں نہ گئے

سن کے بولے وہ مرا حال‌ جدائی مضطرؔجب یہ حالت تھی تو پھر جی سے گزر کیوں نہ گئے

— مضطر خیرآبادی