6 اشعار

انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے

Unhon ne kya na kiya aur kya nahin karte

انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے

«انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتےہزار کچھ ہو مگر اک وفا نہیں کرتے

برا ہوں میں جو کسی کی برائیوں میں نہیںبھلے ہو تم جو کسی کا بھلا نہیں کرتے

وہ آئیں گے مری تقریب مرگ میں توبہکبھی جو رسم عیادت ادا نہیں کرتے

جہاں گئے یہی دیکھا کہ لوگ مرتے ہیںیہی سنا کہ وہ وعدہ وفا نہیں کرتے

کسی کے کم ہیں کسی کے بہت مگر زاہدگناہ کرنے کو کیا پارسا نہیں کرتے

جو ان حسینوں پہ مرتے ہیں جیتے جی مضطرؔوہ انتظار‌ پیام‌ قضا نہیں کرتے

— مضطر خیرآبادی