6 اشعار

سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیں

Sab shareek-e-sadma-o-aazar kuch yoon hi se hain

سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیں

«سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیں» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیںیار کچھ یوں ہی سے ہیں غم خوار کچھ یوں ہی سے ہیں

ان کے سب افعال سب اطوار کچھ یوں ہی سے ہیںقول کچھ یوں ہی سے ہیں اقرار کچھ یوں ہی سے ہیں

اپنے دیوانے سے مل لیجے اسی میں خیر ہےآپ ابھی رسوا سر بازار کچھ یوں ہی سے ہیں

جس جگہ دیکھو نصیحت کے لیے موجود ہیںحضرت ناصح خدائی خوار کچھ یوں ہی سے ہیں

دست وحشت نے گریباں کا صفایا کر دیاجیب کے پردے میں تھوڑے تار کچھ یوں ہی سے ہیں

ان کے آنے کی خبر سن کر اڑا دی ہے خبرورنہ مضطرؔ واقعی بیمار کچھ یوں ہی سے ہیں

— مضطر خیرآبادی