8 اشعار

جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہے

Junoon ke josh mein insan ruswa ho hi jata hai

جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہے

«جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہےگریباں پھاڑنے سے فاش پردا ہو ہی جاتا ہے

محبت خوف رسوائی کا باعث بن ہی جاتی ہےطریق عشق میں اپنوں سے پردا ہو ہی جاتا ہے

جوانی وصل کی لذت پہ راغب کر ہی دیتی ہےتمہیں اس بات کا غم کیوں ہے ایسا ہو ہی جاتا ہے

بگڑتے کیوں ہو آپس میں شکایت کر ہی لیتے ہیںعدو کا تذکرہ دشمن کا چرچا ہو ہی جاتا ہے

تمہاری نرگس بیمار اچھا کر ہی دیتی ہےجسے تم دیکھ لیتے ہو وہ اچھا ہو ہی جاتا ہے

اکیلا پا کے ان کو عرض مطلب کر ہی لیتا ہوںنہ چاہوں تو بھی اظہار تمنا ہو ہی جاتا ہے

مرا دعوئ عشق اغیار باطل کر ہی دیتے ہیںجسے جھوٹا بنا لیں یار جھوٹا ہو ہی جاتا ہے

بتان بے وفا مضطرؔ دل و دیں کر ہی لیتے ہیںتمہیں پر کچھ نہیں موقوف ایسا ہو ہی جاتا ہے

— مضطر خیرآبادی