7 اشعار

محبت ابتدا میں کچھ نہیں معلوم ہوتی ہے

Mohabbat ibtida mein kuch nahin maloom hoti hai

محبت ابتدا میں کچھ نہیں معلوم ہوتی ہے

«محبت ابتدا میں کچھ نہیں معلوم ہوتی ہے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

محبت ابتدا میں کچھ نہیں معلوم ہوتی ہےمگر پھر دشمن ایمان و دیں معلوم ہوتی ہے

وجود ذات عکس عالم ہستی سے ہے ثابتتری صورت ہی صورت آفریں معلوم ہوتی ہے

میں ملنا چاہتا ہوں تجھ سے ایسے طور پر جا کرجہاں تیری تجلی بھی نہیں معلوم ہوتی ہے

گئے ہم دیر سے کعبے مگر یہ کہہ کے پھر آئےکہ تیری شکل کچھ اچھی وہیں معلوم ہوتی ہے

تری برق تجلی کے چلن ہم سے کوئی پوچھےچمکتی ہے کہیں لیکن کہیں معلوم ہوتی ہے

ترا اعجاز قدرت ہے کہ ہستی کی نمائش میںزمانے بھر کو شکل اپنی حسیں معلوم ہوتی ہے

دل مضطرؔ خدا کے واسطے اس سے کنارہ کرمحبت دشمن جان حزیں معلوم ہوتی ہے

— مضطر خیرآبادی