5 اشعار

مکتب کی عاشقی بھی تاریخ زندگی تھی

Maktab ki aashiqi bhi tareekh-e-zindagi thi

مکتب کی عاشقی بھی تاریخ زندگی تھی

«مکتب کی عاشقی بھی تاریخ زندگی تھی» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

مکتب کی عاشقی بھی تاریخ زندگی تھیفاضل تھا گھر سے مجنوں لیلیٰ پڑھی لکھی تھی

فرہاد جان دے گا شیریں تباہ ہوگییہ تو خدا کے گھر سے گویا کہی بدی تھی

قدرت کے دائرے میں اس وقت بت بنے تھےجب نعمت تکلم تقسیم ہو چکی تھی

کعبے میں ہم نے جا کے کچھ اور حال دیکھاجب بت کدہ میں پہنچے صورت ہی دوسری تھی

ماتم میں میرے مضطرؔ وہ کس ادا سے آیاآنکھوں میں کچھ نمی تھی ہونٹوں پہ کچھ ہنسی تھی

— مضطر خیرآبادی