6 اشعار

رہ کے پردے میں رخ پر نور کی باتیں نہ کر

Reh ke parde mein rukh par noor ki baatein na kar

رہ کے پردے میں رخ پر نور کی باتیں نہ کر

«رہ کے پردے میں رخ پر نور کی باتیں نہ کر» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

رہ کے پردے میں رخ پر نور کی باتیں نہ کردور سے باتیں سنا کر دور کی باتیں نہ کر

بیٹھ کر دنیا میں زاہد حور کی باتیں نہ کررہ کے اتنی دور اتنی دور کی باتیں نہ کر

لن ترانی جلوۂ جاناں تری اچھی نہیںمیں کوئی موسیٰ نہیں ہوں طور کی باتیں نہ کر

میری بے ہوشی بڑھی جاتی ہے اس تدبیر سےچارہ گر تو دیدۂ مخمور کی باتیں نہ کر

اپنا غم مجھ کو پرائے غم سے یاد آنے لگاہم نشیں مجھ سے دل رنجور کی باتیں نہ کر

پاس آنے کو جو کہتا ہوں تو مضطرؔ ناز سےکہتے ہیں چل دور اتنی دور کی باتیں نہ کر

— مضطر خیرآبادی