10 اشعار

میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہو

Mere mehboob tum ho yaar tum ho dilruba tum ho

میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہو

«میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہو» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی» میں 1 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہویہ سب کچھ ہو مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ کیا تم ہو

تمہارے نام سے سب لوگ مجھ کو جان جاتے ہیںمیں وہ کھوئی ہوئی اک چیز ہوں جس کا پتا تم ہو

محبت کو ہماری اک زمانہ ہو گیا لیکننہ تم سمجھے کہ کیا میں ہوں نہ میں سمجھا کہ کیا تم ہو

ہمارے دل کو بحر غم کی کیا طاقت جو لے بیٹھےوہ کشتی ڈوب کب سکتی ہے جس کے نا خدا تم ہو

بچھڑنا بھی تمہارا جیتے جی کی موت ہے گویااسے کیا خاک لطف زندگی جس سے جدا تم ہو

مصیبت کا تعلق ہم سے کچھ بھی ہو تو راحت ہےمرے دل کو خدا وہ درد دے جس کی دوا تم ہو

کہیں اس پھوٹے منہ سے بے وفا کا لفظ نکلا تھابس اب طعنوں پہ طعنے ہیں کہ بے شک با وفا تم ہو

قیامت آئے گی یا آ گئی اس کی شکایت کیاقیامت کیوں نہ ہو جب فتنۂ روز جزا تم ہو

الجھ پڑنے میں کاکل ہو بگڑنے میں مقدر ہوپلٹنے میں زمانہ ہو بدلنے میں ہوا تم ہو

وہ کہتے ہیں یہ ساری بے وفائی ہے محبت کینہ مضطرؔ بے وفا میں ہوں نہ مضطرؔ بے وفا تم ہو

— مضطر خیرآبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں