9 اشعار

محبت باعث نا مہربانی ہوتی جاتی ہے

Mohabbat bais-e-na-meherbani hoti jaati hai

محبت باعث نا مہربانی ہوتی جاتی ہے

«محبت باعث نا مہربانی ہوتی جاتی ہے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

محبت باعث نا مہربانی ہوتی جاتی ہےہماری ساری محنت دھول دھانی ہوتی جاتی ہے

حکایت ہوں جو راتوں کو ہمیشہ ہوتی رہتی ہےشکایت ہوں جو آپس میں زبانی ہوتی جاتی ہے

ترا غم آج تک تازہ ہے ظالم ورنہ دنیا میںنئی شے دن گزرنے سے پرانی ہوتی جاتی ہے

تمہاری یاد میں اہل جہاں مر مر کے جیتے ہیںقضا لوگوں کے حق میں زندگانی ہوتی جاتی ہے

بڑا الزام ٹھہرا ہے تعلق رشتہ داری کاقرابت کی محبت بد گمانی ہوتی جاتی ہے

یہی تنبیہ ملنے پر انہیں مجبور کرتی ہےیہی تاکید گویا ضد کی بانی ہوتی جاتی ہے

مرے غم میں وہ مجبوری سے ان حالوں کو پہنچے ہیںکہ اب ان کی نزاکت ناتوانی ہوتی جاتی ہے

ترے کوچے میں اب گردش کی صورت پڑتی جاتی ہےزمیں کی چال دور آسمانی ہوتی جاتی ہے

مرے پہلو میں دل کب تھا لہو کی بوند تھی مضطرؔسو اب وہ بوند بھی قسمت سے پانی ہوتی جاتی ہے

— مضطر خیرآبادی