8 اشعار

میں نے کمرے میں جو تصویر لگائی ہوئی ہے

Main ne kamre mein jo tasweer lagayi hui hai

میں نے کمرے میں جو تصویر لگائی ہوئی ہے

«میں نے کمرے میں جو تصویر لگائی ہوئی ہے» نا معلوم کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

میں نے کمرے میں جو تصویر لگائی ہوئی ہےوہ تری یاد کی پِنسَل سے بنائی ہوئی ہے

برف میں دفن جہاں کی تھی محبّت تم نےمیں نے مدّت سے وہاں آگ جلائی ہوئی ہے

تم اُسے بس مری آنکھوں کا حوالہ دینامیں نے دریا کو ہر اِک بات بتائی ہوئی ہے

پیڑ سے اِس لئے لپٹی ہے سماعت میریکچھ پرندوں نے وہاں بزم سجائی ہوئی ہے

دشتِ غربت کا فقط نام سُنا ہے تم نےمیں نے اِک عُمر وہاں خاک اُڑائی ہوئی ہے

مجھ سے مت پوچھو کہ کیوں بیچتا پھرتا ہوں چراغ؟مجھ سے یہ پوچھو کہ کیا کوئی کمائی ہوئی ہے؟

چاند روتا ہے وہاں بیٹھ کے شب بھر واصفمیں نے سورج کی جہاں لاش چھپائی ہوئی ہے

جبارواصف

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں