7 اشعار

ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں

Hum agar tere khad-o-khaal banane lag jaayen

ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں

«ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں» نا معلوم کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیںصرف آنکھوں پہ کئی ایک زمانے لگ جائیں

میں اگر پھول کی پتی پہ ترا نام لکھوںتتلیاں اُڑ کے ترے نام پہ آنے لگ جائیں

تو اگر ایک جھلک اپنی دکھا دے اُن کوسب مصور تری تصویر بنانے لگ جائیں

ایک لمحے کو اگر تیرا تبسم دیکھیںہوش والوں کے سبھی ہوش ٹھکانے لگ جائیں

سرمدی لہجے میں گاتے ہوئے حساس پرنددل کی آواز میں آواز ملانے لگ جائیں

ہم اگر وجد میں آئیں تو زمانے کو سعیدکبھی غزلیں تو کبھی خواب سنانے لگ جائیں

مبشر سعید

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں