ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
کلام: ادا جعفری
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئےآئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچےخوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)
مہمان شاعر: ادا جعفری
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئےآئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچےخوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
خود حجابوں سا خود جمال سا تھادل کا عالم بھی بے مثال سا تھا
عکس میرا بھی آئنوں میں نہیںوہ بھی کیفیت خیال سا تھا
ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیںصرف آنکھوں پہ کئی ایک زمانے لگ جائیں
میں اگر پھول کی پتی پہ ترا نام لکھوںتتلیاں اُڑ کے ترے نام پہ آنے لگ جائیں