14 اشعار

ہم نے پورا زور لگا کر رقص کیا

Hum ne poora zor laga kar raqs kiya

ہم نے پورا زور لگا کر رقص کیا

«ہم نے پورا زور لگا کر رقص کیا» نا معلوم کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 51 سیکنڈ ہے۔

ہم نے پورا زور لگا کر رقص کیاشرم گئی تو سامنے آ کر رقص کیا

دنیا مستوں کو بے علم سمجھتی تھیہم نے پھر قرآن سنا کر رقص کیا

جس نے ہم کو روکنا چاہا ناچنے سےاس کی آنکھ سے آنکھ ملا کر رقص کیا

چھوڑ دیا مچھلی کو واپس دریا میںاور پھر اپنا ہجر منا کر رقص کیا

اپنی مٹی گوندھی اپنے اشکوں سےاپنے چاک کو آپ گھما کر رقص کیا

تم نے صرف بدن سے اس کو پوجا ہےہم نے روح کو ساتھ ملا کر رقص کیا

گوری تجھ کو خواہش دے کر ہم روئےسانولی تجھ کو خواب دکھا کر رقص کیا

ایک مقام پہ نور بھی جلنے لگتا ہےاور وہاں پر خاک نے جا کر رقص کیا

وہم کو اپنے سامنے لا کر رقص کیااسم پہ اک تصویر سجا کر رقص کیا

بلھے شاہ نے ڈھول بجایا اور ہم نےباھو کی نگری میں جا کر رقص کیا

ہولی کھیلی پیر نجام الدین کے ساتھاور خسرو کو ساتھ نچا کر رقص کیا

غوث قطب ابدال مبارکیں دینے لگےقادری چشتی رنگ ملا کر رقص کیا

یار منانے کی خاطر سب ناچے ہیںہم نے اپنا یار منا کر رقص کیا

ندیم بھابھہ

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں