گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوا
کلام: محسن زیدی
گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوامیں خود ہی چھوڑ کے کار جہاں روانہ ہوا
میں اب چلا کہ مرا قافلہ روانہ ہواکبھی پھر آؤں گا واپس جو آب و دانہ ہوا
بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی
مہمان شاعر: محسن زیدی
گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوامیں خود ہی چھوڑ کے کار جہاں روانہ ہوا
میں اب چلا کہ مرا قافلہ روانہ ہواکبھی پھر آؤں گا واپس جو آب و دانہ ہوا
منزل و سمت سفر سے بے خبر نا آشناہم سفر مجھ کو ملا کیسا سفر نا آشنا
سارے ہی چہرے سبھی دیوار و در نا آشنالگ رہا ہے مجھ کو سارا ہی نگر نا آشنا
ارادہ روز کرتا ہوں، مگر کچھ کر نہیں سکتامیں پیشہ ور فریبی ہوں، محبت کر نہیں سکتا
میں تم سے صاف کہتا ہوں، مجھے تم سے نہیں الفتفقط لفظی محبت ہے، میں تم پہ مر نہیں سکتا