11 اشعار

خواب تو خواب ہیں

Khwab toh khwab hi hai'n

خواب تو خواب ہیں

«خواب تو خواب ہیں» نا معلوم کا کلام ہے، جسے عمارہ قاضی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

خواب تو خواب ہیںان پہ بندش نہیں

عقل کہتی رہے لاکھ کوشش کروریگ زاروں میں پانی ابلتا نہیں

بت بناتے رہوآگ کے دوش پرپنکھڑی سے سنو ہونٹ کی داستاں

نیلگوں حاشیوں سے سجاتے رہوچشم حیرت کناں

لمس چھوئے بنا تو بہلتا نہیںخواب تو خواب ہیں

شوق تعبیر میں کب سےآنکھوں کی بستی میں رہتے ہیں یہ

جیسے ہی بستی چشم کے درمقفل ہوئےجاگ جاتے ہیں یہ

پھر سے تقسیم کرتے ہیں پیکر وہیپھر سجاتے ہیں اس کے ہر اک راز کو

ہم کو معلو م ہے تم بس اک خواب ہوپھر بھی نہ جانے کیوں

میرا ایکانت مجھ سے یہ کہتا رہےتم میرے پاس تھے تم میرے پاس ہو

خواب تو خواب ہیں

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں