غزل 15 اشعار

عکس ٹوٹا ہے بارہا میرا

Aks tuta hai barha mera

عکس ٹوٹا ہے بارہا میراسنگ خارا ہے آئنہ میرا

ساری دنیا مری مخالف ہےایک بچہ ہے ہم نوا میرا

تیز بارش کا میں پرندہ ہوںبادلوں میں ہے گھونسلہ میرا

گھر میں مہماں ہوئی ہے تنہائیبھر گیا ہے برآمدہ میرا

دو چراغوں سے رات روشن ہےایک تیرا ہے دوسرا میرا

اوپر اوپر سے ٹھیک لگتا ہےزخم اندر سے ہے ہرا میرا

پوچھ لینا کسی پرندے سےسب کو معلوم ہے پتا میرا

میری ترکیب میں ہے سچائیکون چکھے گا ذائقہ میرا

کونے کھدرے بھی خوب روشن ہیںحجرۂ ذات ہے کھلا میرا

ہونے لگتی ہے بات جب خود سےٹوٹ جاتا ہے رابطہ میرا

کسی منزل کی یاد آتے ہیچلنے لگتا ہے نقش پا میرا

ایک پرکار کے سمٹتے ہیپھیل جاتا ہے دائرہ میرا

ایک ٹھوکر سے ٹوٹ جائے گاجسم فانی ہے بھربھرا میرا

تم زمینوں کو ناپتے رہناکائناتی ہے فاصلہ میرا

تھک کے واپس چلا گیا ناصرؔعین منزل سے راستہ میرا

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں