غزل 14 اشعار

چھاؤں پیتی ہے دھوپ کھاتی ہے

Chhanw piti hai dhup khati hai

چھاؤں پیتی ہے دھوپ کھاتی ہےشب سدا کی چڑیل جاتی ہے

اک ستارے پہ آن بیٹھے ہیںہاتھ میں چاند کی چپاتی ہے

اور کچھ ہو نہ ہو زمانے میںایک دائم سی بے ثباتی ہے

میرے دکھ درد گو زمینی ہیںمیری تنہائی کائناتی ہے

جھیل کو تیرنا نہیں آتااپنے پانی میں ڈوب جاتی ہے

دیکھ کر گھر کی حالت خستہمیری تصویر مسکراتی ہے

ایک نلکی مہین دھاگے کیدست خیاط کو گھماتی ہے

جینے مرنے سے باز آتے نہیںاپنی فطرت ہی وارداتی ہے

زندگی کتنی اچھی ٹیچر ہےزندگی بھر سبق سکھاتی ہے

اب پرندوں کو کون سمجھائےشاخ چھتنار کٹ بھی جاتی ہے

چلنے لگتا ہے راستہ مجھ میںمیری بچی قدم اٹھاتی ہے

اب تو ہونے سے کچھ نہیں ہوتااب تو ہونا بھی نفسیاتی ہے

دست تاریخ سے نکلتے ہیجنگ ذہنوں میں پھیل جاتی ہے

آتے آتے بھی شاعری ناصرؔاک زمانے کے بعد آتی ہے

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں