غزل 9 اشعار

شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھے

Shab ki pahnaiyon mein chikh uthe

شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھےدرد تنہائیوں میں چیخ اٹھے

تہ بہ تہ منجمد تھکن جاگیجسم انگڑائیوں میں چیخ اٹھے

دھوپ جب آئینہ بدست آئیعکس بینائیوں میں چیخ اٹھے

میں سمندر ہوں کوئی تو سیپیمیری گہرائیوں میں چیخ اٹھے

رت جگے تن گئے دریچوں پرخواب انگنائیوں میں چیخ اٹھے

جب پہاڑوں پہ برف گرنے لگےکوئی اترائیوں میں چیخ اٹھے

جب پکارا کسی مسافر نےراستے کھائیوں میں چیخ اٹھے

کچھ خموشی سے دیکھتے تھے مجھےکچھ تماشائیوں میں چیخ اٹھے

رات بھر خواب دیکھنے والےدن کی سچائیوں میں چیخ اٹھے

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں