غزل 13 اشعار

مال اٹھا اور دکان خالی کر

Mal utha aur dukan khaali kar

مال اٹھا اور دکان خالی کریہ زمان و مکان خالی کر

جا کہیں اور کر شکار اپناچھوڑ جنگل مچان خالی کر

جا کنارے پہ جا کے بیٹھ کہیںاے ہوا بادبان خالی کر

اب کسی اور کو بھی باری دےاے پرندے اڑان خالی کر

روشنی کے لئے جگہ تو بنارات کا درمیان خالی کر

منتظر ہیں امیدوار نئےکمرۂ امتحان خالی کر

دھوپ ساری نکال اندر سےجسم کا سائبان خالی کر

گیت کو اپنی لے میں اٹھنے دےسر بدل اور تان خالی کر

کوئی اچھا سخن بھی لب پر لاشور و شر سے زبان خالی کر

جانب کوہ چل تیقن سےدشت وہم و گمان خالی کر

تیز رو ہیں مسافران عدمراہ دے پائیدان خالی کر

آنے والے دنوں کا قصہ لکھسن چکی داستان خالی کر

گر چکی ہیں تمام دیواریںاب تو ناصرؔ مکان خالی کر

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں